25

کلاشنکوف، ایٹم بم، ڈائنامائیٹ: وہ مشہور سائنسدان جو اپنی ’تباہ کن‘ ایجادات کے ہاتھوں احساس جرم کا شکار رہے

کلاشنکوف، ایٹم بم، ڈائنامائیٹ: وہ مشہور سائنسدان جو اپنی ’تباہ کن‘ ایجادات کے ہاتھوں احساس جرم کا شکار رہے

(ڈیلی طالِب)

کسی چیز کو ایجاد کرنا اور انسانی تاریخ کو بدل کر رکھ دینا کسی بھی انسان کے لیے انتہائی فرحت بخش احساس ہو سکتا ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ تمام ایجادات سے دنیا کو فائدہ ہی ہوا ہو کیونکہ کچھ ایجادات نے دنیا کو نقصان بھی پہنچایا اور ان کے مؤجد اکثر اپنی زندگی میں اس بارے میں پچھتاوے کا اظہار کرتے رہے۔

اس مضمون میں ہم چار ایسی ایجادات کا ذکر کر رہے ہیں جنھوں نے دنیا میں تباہی مچائی اور ان ایجادات کے موجد پچھتاوے کا شکار رہے۔

رابرٹ اوپین ہائیمر: ایٹم بم کے مؤجد

دوسری عالمی جنگ کے دوران ایٹم بم کی تخلیق اور اس کے استعمال میں سب سے بڑا ہاتھ سائنسدان رابرٹ اوپین ہائیمر کا تھا۔

امریکہ کے طبیعیات دان رابرٹ اوپین ہائیمر اس پراجیکٹ کے ڈائریکٹر تھے، جو تاریخ میں پہلا ایٹم بم تیار کرنے میں کامیاب رہا۔

جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرانے سے پہلے 16 جولائی سنہ 1945 کو نیو میکسیکو کے ایک ریگستان میں اس کا تجربہ کیا گیا اور اس آپریشن کو ’ٹرنٹی‘ کا نام دیا گیا تھا۔

ایک اندازے کے مطابق ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم حملے میں ڈیڑھ سے ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

کرشماتی مگر ایک پیچیدہ شخصیت کے مالک رابرٹ اوپین ہائیمر نے اپنے آپ کو ایٹمی ذرات، الیکٹران، پروٹون زیٹرون اور شعاعوں کے توانائی بخش عمل کا مطالعہ کرنے کے لیے وقف کر رکھا تھا لیکن ان برسوں میں دنیا میں جاری جنگی تنازعات کی وجہ سے ان کی پیشہ ورانہ زندگی نے ایک اور رُخ اختیار کر لیا۔

مشہور زمانہ سائنسدان البرٹ آئن سٹائن نے اس وقت کے امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ کو ایک خط لکھا، جس میں انھوں نے امریکی صدر کو نازیوں کے ایٹم بم بنانے کے خطرے کے بارے میں آگاہ کیا۔ جس کے بعد امریکہ میں حکومتی سطح پر ایٹمی ہتھیار بنانا ترجیح بن گئی۔

ایٹمی ہتھیار بنانے کے سارے عمل کی سربراہی اوپن ہائیمر نے کی اور فوری طور پر قدرتی یورینیم سے یورینیم 235 الگ کرنے اور بم بنانے کے لیے اس کی مقدار کا تعین کرنے کے عمل کا آغاز کیا۔

اس کام کو انجام دینے کے لیے انھیں ایک لیبارٹری قائم کرنے اور اس کا انتظام سنبھالنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ سنہ 1943 میں انھوں نے نیو میکسیکو میں لاس الاموس میں اس لیبارٹری کے لیے جگہ کا انتخاب کیا۔

ایٹمی ہتھیار کی تاریخ پر نظر رکھنے والے ایلکس ویلرسٹین نے بی بی سی کو بتایا کہ اوپن ہائیمر کو انتہائی اہم ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

’ایٹم بم کے ڈیزائن کے حوالے اور اس کے استعمال سے متعلق اہم فیصلوں میں ان کا کردار اہم تھا۔ اس کے علاوہ وہ اس کمیٹی کا بھی حصہ تھے جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان بموں کو کہاں گرایا جائے گا۔‘

لیکن اس کے بعد کئی موقعوں پر اوپن ہائیمر نے ہیروشیما اور ناگاساکی میں ہزاروں افراد کے مرنے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا، حتیٰ کہ بم دھماکے کے دو ماہ بعد وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔

سنہ 1947 سے 1952 تک وہ امریکہ میں اٹامک انرجی کمیشن کے مشیر رہے جہاں وہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان ہتھیاروں کی دوڑ کو روکنے کی وکالت کرتے رہے۔

اس کے علاوہ انھوں نے ہائیڈروجن بم کی تیاری کی بھی سخت مخالفت کی لیکن ان کی کوششیں ناکام رہیں۔ اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے ان کی سکیورٹی واپس لے لی گئی اور آخر کار انھیں حاصل سیاسی اثر و رسوخ بھی چھین لیا گیا۔

1950 کی دہائی کے آخر اور 1960 کی دہائی کے اوائل میں اوپین ہائیمر کی شخصیت کافی تلخ ہو گئی تھی کیونکہ انھیں بہت سی چیزوں پر پچھتاوا تھا۔

ایلکس ویلرسٹین کہتے ہیں کہ ’ان کے پچھتاوے کا دائرہ ہمیشہ جنگ کے بعد کی ناکامیوں پر مرکوز رہا۔ انھیں افسوس تھا کہ وہ ہتھیاروں کی روک تھام کے اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکے۔‘

اوپن ہائیمر کے مطابق بم دھماکوں کے بعد ان کے ذہن میں ہندوؤں کی مقدس کتاب کے الفاظ آئے: ’اب میں موت بن گیا ہوں، دنیا کو تباہ کرنے والا۔‘

بہت سے تاریخ دانوں نے ان الفاظ کو اوپن ہائیمر کی جان لیوا تخلیق کے بارے میں احساس جرم سے منسوب کیا لیکن بہت سے تاریخ دان جیسے ویلرسٹین کے نزدیک اس کا تعلق ایسی چیزوں پر حیرانی کا اظہار تھا جو ’اس دنیا سے ہٹ کر تھیں‘ جیسا کہ جوہری ہتھیار۔

لیکن اس کے باوجود اوپن ہائیمر کو ہمیشہ ’ایٹم بم کے مؤجد‘ کے طور پر ہی یاد رکھا جائے گا۔

کلاشنکوف کے مؤجد میخائل کلاشنکوف

میخائل کلاشنکوف کی خودکار رائفل کلاشنکوف کرہ ارض کی مشہور ترین رائفل ہے۔ اس رائفل کو درجنوں ممالک کی فوجیں استعمال کر رہی ہیں۔

میخائل کلاشنکوف کو سنہ 1938 میں ریڈ آرمی میں شامل کیا گیا۔ وہ اسلحے کے ڈیزائن میں ماہر تھے اور اسی لیے ان کو روسی ٹینک رجمنٹ میں اسلحے میں بہتری کی ڈیوٹی سونپی گئی۔

سنہ 1947 میں میخائل کلاشنکوف نے اے کے 47 نامی یہ مشین گن تیار کی۔ جسے سوویت اور روس سمیت دنیا بھر کی کئی فوجوں نے استعمال کیا۔

کلاشنکوف دنیا بھر میں انقلاب کی علامت بھی بنی اور انگولا سے لے کر ویتنام اور الجیریا سے لے کر افغانستان تک اسے استعمال کیا گیا۔

جہاں اس رائفل کو فلسطینیوں نے کثرت سے استعمال کیا تو دوسری جانب القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن بھی اس رائفل کے ہمراہ دیکھے گئے۔

یہ دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی رائفل بن گئی اور اندازوں کے مطابق ایٹم بم کے مقابلے اس سے ہونے والی اموات کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

دیگر خودکار رائفلوں کے مقابلے میں جہاں اس کو تیار کرنا آسان ہے وہاں میدان جنگ میں اس کا استعمال اور دیکھ بھال بھی خاصی آسان ہے۔

میخائل کلاشنکوف نے اپنی زندگی میں بہت ہی کم موقعوں پر اپنی اس ایجاد کے بارے میں افسوس کا اظہار کیا تاہم اپنی موت سے کچھ عرصہ پہلے انھوں نے اعتراف کیا تھا وہ ’اذیت ناک روحانی درد‘ میں ہیں۔

میخائل کلاشنکوف سنہ 2013 میں 94 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

میخائل کلاشنکوف کی موت کے بعد روسی میڈیا پر منظر عام پر آنے والے اپنے ایک خط میں انھوں نے اعتراف کیا تھا کہ وہ اس رائفل سے ہونے والی لاکھوں اموات کی ذمہ داری محسوس کرتے ہیں۔ انھوں نے یہ خط اپنی زندگی میں روس کی ایک دقیانوسی چرچ کے سربراہ کو لکھا تھا۔

اس خط کے الفاظ کچھ یوں تھے: ’میرا روحانی درد ناقابل برداشت ہے۔ میں اپنے آپ سے بار بار یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا میری رائفل نے لوگوں کو ان کی زندگیوں سے محروم کیا۔‘

’میں جتنا زیادہ زندہ رہوں گا،یہ سوال میرے ذہن میں اتنا ہی پھنستا رہے گا۔ میں سوچتا ہوں کہ خدا نے انسان کو حسد، لالچ اور جارحیت کی شیطانی خواہشات کی اجازت کیوں دی؟‘

آرتھر گیلسٹن اور ایجنٹ اورنج

امریکی ماہر حیاتیات و طبیعیات آرتھر گالسٹن نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ کوئی ایسی چیز بنا رہے ہیں جسے بطور ہتھیار استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وہ پودوں کے ہارمونز اور ان کی نشوونما پر روشنی کے اثرات پر تحقیق کرتے تھے۔

انھوں نے پودوں کی نشوونما کے لیے ٹرائیوڈو بینزوک نامی تیزاب کا تجربہ کیا۔ انھوں نے دریافت کیا کہ یہ جزو سویابین کے پھولوں کی نشوونما بڑھا سکتا ہے تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اس کے زیادہ استعمال سے پودے اپنے پتوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔

لیکن گیلسٹن کے یہ نتائج صرف پودوں کی دنیا تک ہی محدود نہیں تھے۔ ویتنام جنگ کے تناظر میں، جو سنہ 1955 سے 1975 کے درمیان ہوئی، دوسرے سائنسدانوں نے اس جزو کو ’ایجنٹ اورنج‘ بنانے کے لیے استعمال کیا۔

ایجنٹ اورنج ایک طاقتور جڑی بوٹی مار دوا ہے، جس کا مقصد جنگلات اور فصلوں کو ختم کرنا تھا اور ویت کونگ گوریلا اس کا استحصال کر سکتے تھے۔

سنہ 1962 سے 1970 تک امریکی فوجیوں نے فصلوں کو تباہ کرنے اور اپنے دشمنوں کی نقل و حرکت کے مقامات اور راستوں کا سراغ لگانے کے لیے تقریباً 20 ملین گیلن جڑی بوٹی مار دوا کا استعمال کیا۔

گیلسٹن پر اس کا گہرا اثر ہوا اور انھوں نے بار بار حکام اور دنیا کو ایجنٹ اورنج کے ماحولیاتی نقصان سے آگاہ کیا۔ اس کے بعد انھوں نے خبردار کیا کہ یہ جڑی بوٹی مار دوا انسانوں کے لیے بھی خطرہ ہے۔

ایجنٹ اورنج کا سب سے خطرناک جزو ڈائی آکسین ہے، جو دہائیوں تک ماحول میں رہ سکتا ہے اور اس کے علاوہ کینسر، جنین کی نشوونما میں خرابی، بانجھ پن کے مسائل کے علاوہ اعصابی اور مدافعتی نظام پر بھی حملہ آور ہو سکتا ہے۔

گیلسٹن اور دیگر سائنسدانوں کی وارننگ نے امریکی حکومت کو اس بارے میں مزید مطالعے کی ہدایت جاری کرنے پر مجبور کیا، جس کے نتائج کی روشنی میں اس وقت کے امریکی صدر رچرڈ نکسن نے ایجنٹ اورنج کے چھڑکاؤ کو روکنے کا حکم دیا۔

آرتھر گالسٹن نے یہ دعویٰ کیا کہ ایجنٹ اورنج ’سائنس کا غلط استعمال‘ تھا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’سائنس کا مقصد انسانیت کا خاتمہ نہیں بلکہ اس کی بہتری ہے اور میرے نزدیک اس کو فوجی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا مناسب نہیں۔‘

الفریڈ نوبل اور ڈائنامائٹ

دسمبر 1896 میں سویڈن کے دو نوجوان انجینیئروں کو اس وقت انتہائی حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب انھوں نے الفریڈ نوبل کے وصیت نامے کو کھولا۔ الفریڈ نوبل نے اپنی دولت کا زیادہ تر حصہ نوبل فاؤنڈیشن کی تعمیر کے لیے وقف کر دیا تھا۔

اپنے استاد کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے راگنار سہلمان اور روڈولف لِلجیکیوسٹ نے نوبل فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی، جو دنیا بھر میں فزکس، کیمسٹری، ادب، عالمی امن اور دیگر شعبوں میں ماہرین کو میرٹ کی بنیاد پر سالانہ ایوارڈز سے نوازتی ہے۔

الفریڈ نوبل کی اس آخری خواہش کے پیچھے ایک زبردست وجہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی ایجاد کے اطلاق سے ہونے والی اموات اور تباہی کے خیال میں بہت پشیمان رہا کرتے تھے۔

اور یہی وجہ تھی کہ انھوں نے اپنی دولت کا بڑا حصہ نوبل فاؤنڈیشن بنانے کے لیے وقف کر دیا۔

اس سے کئی دہائی قبل سویڈن سے تعلق رکھنے والے کیمیا دان، مصنف اور مؤجد الفریڈ نوبل نے ڈائنامائٹ ایجاد کیا تھا۔

انجینیئرز کے خاندان میں پیدا ہونے والے نوبل نے اپنے والد کے ساتھ دھماکہ خیز مواد کی تیاری میں کام کیا لیکن سنہ 1864 میں نائٹرو گلیسرین کے ایک خوفناک دھماکے میں ان کے چھوٹے بھائی سمیت دیگر چار افراد مارے گئے۔

دو سال بعد سنہ 1866 میں نوبل نے ایک ایسا طریقہ تیار کیا جس سے دھماکہ خیز مواد کو محفوظ طریقے سے سنبھالا جا سکے۔ نائٹروگلیسرین کی شدت کو کم کرنے کے لیے انھوں نے اسے ایک غیر محفوظ جاذب مواد کے ساتھ ملایا اور اس طرح ڈائنامائٹ وجود میں آیا۔

اس ایجاد نے الفریڈ نوبل کو بے پناہ دولت اور شہرت دی لیکن تعمیر کے شعبے میں ایک نئے دور کے ساتھ تباہی کا آغاز بھی ہوا۔ اسے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔

الفریڈ نوبل 10 دسمبر 1896 کو اٹلی کے شہر سان ریمو میں وفات پا گئے۔ مرنے سے پہلے انھوں نے اپنی وصیت پر دستخط کیے، جس نے انسانیت کی تاریخ کے سب سے باوقار بین الاقوامی ایوارڈ فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں