41

گفتگو کے پانچ گُر جو آپ کی سماجی زندگی سنوار سکتے ہیں

گفتگو کے پانچ گُر جو آپ کی سماجی زندگی سنوار سکتے ہیں

(ڈیلی طالِب)

مصنفہ اور ناول نگار ریبیکا ویسٹ اپنی کہانیوں کے ایک مجموعے ’دی حارش وائس‘ میں لکھتی ہیں کہ دو طرفہ گفتگو جیسی کوئی چیز موجود نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک دھوکہ ہے اور اصل میں یہ خود کلامی کا عمل ہے جو کہ دونوں طرف سے چل رہا ہوتا ہے۔

ان کے مطابق ہمارے الفاظ دوسرے شخص کے لفظوں کے اوپر سے گزر رہے ہوتے ہیں اور کوئی معنی خیز گفتگو نہیں ہو رہی ہوتی۔

ہر شخص کو زندگی میں کبھی نہ کبھی ایسا ضرور محسوس ہوا ہوگا۔ چاہے پھر وہ آپ کی کافی بنانے والی بیریسٹا ہو یا پھر آپ کسی قریبی دوست سے مل رہے ہوں۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ایک تعلق بنا سکیں لیکن پھر ہم گفتگو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے خیالات آپس میں نہیں ملتے۔

کووڈ کی وجہ سے بھی ان احساسات میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک لمبے عرصے تک اکیلے رہنے کے بعد ہماری سماجی رابطوں کی ضرورت میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اور ایسے میں یہ بات اور بھی مایوس کن ہے کہ ہمارے اور دوسروں کے درمیان اب بھی ایک خلا موجود ہے۔ حالانکہ ایک دوسرے سے ملنے پر پابندی بھی ختم ہوچکی ہے۔

اگر آپ بھی ایسا محسوس کرتے ہیں تو آپ مدد لے سکتے ہیں۔ گذشتے کچھ برسوں میں سائیکالوجسٹس (علمِ نفسیات کے ماہرین) نے گفتگو کے فن پر تحقیق کی ہے اور ایسی رکاوٹوں کی نشاندہی کی ہے جو کہ معنی خیز تعلق میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ انھوں نے ان مشکلات کو ہٹانے پر بھی تحقیق کی ہے۔

آئیے ایسی پانچ چیزوں کے بارے میں پڑھتے ہیں جن سے گفتگو کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

سوال پوچھیں

سب سے پہلا قدم بہت ہی آسان لگتا ہے لیکن ہم اکثر اسے بھول جاتے ہیں: اگر آپ کو کسی کے ساتھ معنی خیز گفتگو کرنی ہے اور ‘خود کلامی‘ نہیں تو آپ سوال پوچھنے کے عمل پر محنت کریں۔

امریکی یونیورسٹی جارج ٹاؤن میں اسسٹنٹ پروفیسر کیرن ہوانگ کی تحقیق کی مثال لے لیتے ہیں۔ جب وہ ہارورڈ یونیورسٹی میں آرگنائزیشنل بیہیویر میں پی ایچ ڈی کر رہی تھیں تو انھوں نے 130 لوگوں کو اپنی لیبارٹری آنے کی دعوت دی اور دو دو لوگوں کی جوڑیاں بنا کر انھیں آپس میں گفتگو کرنے کو کہا۔

انھیں پتا چلا کہ اتنے کم وقت میں بھی لوگوں کے سوال پوچھنے کی شرح میں بہت فرق تھا۔ کم سوال پوچھنے والوں میں اس کی شرح چار یا اس سے کم تھی جب کہ زیادہ سوال پوچھنے والوں میں نو یا اس سے زیادہ سوال پوچھے گئے۔

اس تحقیق کو جاری رکھتے ہوئے ہوانگ کو یہ پتا چلا کہ سوال پوچھنے کے عمل سے لوگوں کا آپ کو پسند یا نا پسند کرنے پر بڑا اثر پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک سپیڈ ڈیٹنگ ایونٹ پر ہونے والی گفتگو کا تجزیہ کرتے ہوئے انھیں یہ پتا چلا کہ پوچھے گئے سوالوں کی تعداد سے یہ پتا چلایا جاسکتا ہے کہ اس میں شامل ہونے والے دوسری بار ایک دوسرے سے ملیں گے یا نہیں۔

لیکن سارے سوال یکساں پُر کشش نہیں ہوتے۔ سوال کا جواب سن کر مزید معلومات کے لیے اس جواب کے بارے میں سوال کرنا زیادہ اچھا محسوس ہوتا ہے بجائے اس کے کہ آپ گفتگو کا موضوع تبدیل کر دیں۔ اسی طری وہی سوال دوسرے سے کرنا جو کہ اس نے آپ سے کیا، اچھا طریقہ نہیں۔

ہوانگ کی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ زیادہ تر لوگ سوال کرنے کے عمل کی اہمیت سے واقف نہیں۔ ہمیں اپنے بارے میں بات کرنا اچھا لگتا ہے لیکن ہم یہی چیز دوسروں پر رکھ کر نہیں سوچتے اور ایسا کرنے سے ہم اس چیز کے فوائد کو نظر انداز کرتے ہیں جس سے ہمارے رشتوں کو نقصان پہنچتا ہے۔

ہمدردی کا احساس

ہمیں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ خود کو دوسروں کی جگہ پر رکھ کر سوچیں لیکن ہماری ہمدردی اکثر اتنی درست سمت میں نہیں ہوتی جتنی کہ ہم سوچتے ہیں۔

اس کی ایک وجہ انا پرستی ہے۔ شکاگو یونیورسٹی میں بیہیویورل سائنس کے پروفیسر نکولس ایپلی کہتے ہیں کہ ’ایسا تب ہوتا ہے کہ جب میں اپنے تجربات اور اپنی ذہنی حالت کا استعمال کرتے ہوئے دوسروں کے بارے میں سوچوں۔ اور ہم دونوں لوگوں کی ذہنی حالت میں صحیع طریقے سے فرق کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔‘

اس انا پرستی کو اس طرح سے بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ جب ہم اپنے آس پاس کسی چیز کی نشاندہی کرتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ دوسرا شخص اس چیز کو نہیں دیکھ پا رہا۔ یا پھر ہم کسی کی معلومات کے بارے میں غلط اندازہ لگاتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ جس موضوع پر بات کی جارہی ہے انھیں اس بارے میں پتا ہوگا۔ اس وجہ سے ہم انھیں پوری طرح سمجھانے میں ناکام ہوجاتے ہیں، چاہے بات کسی ریستوران کی ہو رہی ہو یا متنازع موضوع پر خیالات کی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایپلی کی تحقیق سے یہ پتا چلتا ہے کہ ہماری انا پرستی اس وقت شدت اختیار کر جاتی ہے جب ہم کسی اجنبی کے بجائے جاننے والے کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اس کو ’کلوزنز کمیونیکیشن بائس‘ بھی کہا جاتا ہے یعنی رابطوں میں قربت کی وجہ سے پیدا ہونے والا تعصب۔

ایپلی کہتے ہیں ‘ہم اکثر اپنے دوستوں اور ساتھیوں کے بارے میں یہ سوچتے ہیں کہ وہ ہم جیسے ہوں گے۔ تو ہم یہ تصور کرتے ہیں کہ انھیں بھی وہی پتا ہوگا جو کہ ہمیں معلوم ہے۔‘

مگر اجنبیوں کے ساتھ ہم یہ سوچنے سے پہلے احتیاط برتتے ہیں۔

اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے حاضر دماغی سے دوسرے کے زاویے کے بارے میں سوچنا ضروری ہے۔ اس عمل کے دوران آپ جان بوجھ کر دوسرے کے پہلو اور سوچ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں یہ سب ان کے بارے میں پہلے سے پتا ہونے والی معلومات کو سامنے رکھ کر کرتے ہیں۔

لیکن ایپلی کی تحقیق یہ کہتی ہیں کہ ایسا کرنے سے ہمارے معشرتی ادراک کی درستی کے تناسب میں کمی آتی ہے۔ کیونکہ ایسا کرنے سے ہم ایسی چیزیں سوچتے ہیں جو کہ سچ نہیں ہو سکتیں۔ عام طور پر کسی کے بارے میں کوئی بھی چیز سوچنے کے بجائے بہتر یہ ہے کہ ہم اس شخص سے خود پوچھیں کہ اس بارے میں وہ کیا سوچ رہا ہے۔

بات وہ کریں جو دوسروں کے بھی علم میں ہو

اب بات کرتے ہیں ہماری گفتگو کے عنوان کا انتخاب کرنے کے بارے میں۔ ایسا سوچنا قدرتی ہے کہ لوگ نئی چیزوں کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں۔

اسی لیے ہماری ہمیشہ یہ کوشش ہونی چاہیے کہ ہم کچھ نیا اور دلچسپ بتا رہے ہیں، نہ کہ وہ جو انھیں پہلے سے پتا ہے۔ لیکن یہ الہام اکثر عدم توازن کا شکار ہوتا ہے۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف پینسلوینیا میں سوشل سائیکالوجسٹ گس کونی کی تحقیق کہ مطابق ہم نئے موضوعات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ‘ناولٹی پینلٹی‘ کا شکار ہوجاتے ہیں، یعنی ہم نئے موضوعات پر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔

ایک تجربے میں شامل لوگوں کو تین کے گروپ میں بانٹ دیا گیا۔ ہر شخص کو دو ویڈیوز دکھائی گئیں جو کہ ذہانت یا پھر نئے مشروب بنانے کے بارے میں تھی۔ اس کے بعد جب تینوں لوگ گروپ میں اکھٹے ہوئے تو ان میں سے نامزد کیے گئے سپیکر سے کہا گیا کہ وہ ویڈیو کی تفصیل بیان کریں۔ ان کے ساتھیوں کو انھیں دو منٹ تک سننا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سننے والوں نے بولنے والے شخص کی اس ویڈیو کے بارے میں تفصیل کو زیادہ ترجیح دی جسے وہ دیکھ چکے تھے۔ اس کے برعکس جب سپیکر نے اس ویڈیو کی بات کی جس کا انھیں علم نہیں تھا تو اس میں ان کی توجہ اتنی زیادہ نہیں تھی۔ حالانکہ اندیکھی ویڈیو میں نئی معلومات شامل تھی جن کا انھیں علم نہیں تھا۔

کونی کہتے ہیں کہ ناولٹی پینلٹی تب عمل میں آتی ہے جب ہماری گفتگو کے درمیان ‘انفارمیشنل گیپس‘ ہوں، یعنی کہ گفتگو میں معلومات کی کمی۔

اگر ہم کسی نئے موضوع کے بارے میں بات کررہے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ سننے والوں کو اس کے بارے میں مکمل معلومات نہ ہوں۔ اور وہ پوری طرح ہماری بات کو سمجھ نہ پائیں لیکن اگر ہم اس موضوع پر بات کررہے ہیں جس کا انھیں علم ہے تو وہ خود ہی اس گفتگو سے بہت سی چیزیں اخز کرسکتے ہیں جو کہ ہم نے انھیں نہیں بتائیں۔

مثال کے طور پر ناولٹی پینلٹی کے عنصر کو اس زاویے سے بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ جب ہم کسی پُرکشش جگہ پر چھٹیاں منانے جاتے ہیں اور ہم اس کی تفصیل بتانے لگتے ہیں۔ ایسے میں ہمارے دوستوں کو اس میں اتنی زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی اگر وہ اس جگہ پر خود نہ گئے ہوں۔

کونی کہتے ہیں کہ ’جب ہمارے ذہنوں میں وہ تجربہ اتنا تازہ ہوتا ہے کہ ہم اس جگہ کی خوشبو سے لے کر اس کے رنگ دیکھ اور محسوس کرسکتے ہیں۔ تو ہم یہ سوچتے ہیں کہ دوسرے لوگ بھی ایسا کر پائیں گے۔‘

اس حوالے سے کونی کا مشورہ یہ ہے کہ اگر ہم ناولٹی پینلٹی کے اثر کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے کہانی بتانے کے انداز ممیں تبدیلی لانا ہوگی۔ اسے اس انداز میں بتائیں جس سے اس کی صحیح طریقے سے تصویر کشی ہو سکے۔

کونی کے مطابق جب آپ کو اس بات کا علم ہوگا تو آپ اپنے تجربات بہتر طریقے سے بنانے لگیں گے۔ اور آہستہ آہستہ آپ کو اس میں مہارت ہوجاتی ہے۔ تاہم گفتگو میں ان موضوعات کا چناؤ زیادہ بہتر ہے جس کے بارے میں ہر کوئی بات کرسکے۔

معنی خیز گفتگو سے نہ گھبرائیں

اس کا یہ مقصد نہیں کہ آپ ایک جیسے تجربات بتانے کی خاطر اپنی توجہ صرف ہلکی پھلی گفتگو پر ہی رکھیں۔ لیکن ایپلی کی تحقیق یہ کہتی ہے کہ بہت سے ایسے ایک جیسے تجربات ہیں جن کے بارے میں بات کرنے سے معنی خیز گفتگو جنم لیتی ہیں۔ اور ایسے میں لوگ اس گفتگو کے دوران اپنے احساسات اور گہری سوچ کے خود انکشافی عمل سے گزر رہے ہوتے ہیں چاہے پھر وہ کسی اجنبی سے ہی کیوں نہ بات کررہے ہوں۔

ایسی گفتگو سے پہلے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اس طرح کی باتیں کرنا ایک مشکل عمل ہوگا۔ لیکن اصل میں اس قسم کی گفتگو ان کی امید سے زیادہ اچھی اور بہت آرام سے جاری رہتی ہے۔ اس سے لوگوں کو گفتگو کرنے والے کے ساتھ ایک رشتہ بھی محسوس ہوتا ہے اور بعد میں ان کا موڈ بھی خوشگوار رہتا ہے۔ عام طور پر تحقیق میں شامل افراد نے گفتگو کرنے والے کی اندرونی سوچ اور احساسات میں زیادہ دلچسپی دکھائی۔ حالانکہ گفتگو سے پہلے انھوں نے نہیں سوچا تھا کہ ایسا ہوگا۔

ایپلی کہتے ہیں کہ ’اس قسم کی معنی خیز گفتگو میں آپ کو دوسرے شخص کی ذہنی حالت کے بارے میں پتا چلتا ہے۔ اور آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ شخص اصل میں آپ کا خیال رکھنا چاہتا ہے۔‘

ایسے میں یہ گفتگو دل کو چھو جاتی ہے۔ قطع نظر اس بات کے کہ آپ اس شخص سے دوبارے ملیں گے یا نہیں۔

بے جا مروت کے بجائے ہوشیاری سے کام لیں

ایک منٹ کے لیے سوچیں کہ آپ کو کسی بھی محفل میں مکمل ایمانداری سے بات کرنی ہے۔ ایسے میں آپ کے تعلقات پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟

یونیورسٹی آف شکاگو میں بیہیویرل سائنس کی ماہر ایما لیوین نے کچھ عرصہ قبل کارنیج میلن یونیورسٹی میں اپنی ہم منصب تایا کوہن کے ساتھ مل کر ایک تجربہ کیا۔

انھوں نے 150 لوگوں کو تین، تین لوگوں کے گروہ میں بانٹا۔ پہلے گروہ سے یہ کہا گیا کہ کہ وہ اگلے تین دن تک گھر اور دفتر میں مکمل ایمانداری سے گفتگو کریں۔ اسی دوران دوسرے گروہ کو یہ کہا گیا کہ وہ لوگوں کے احساسات کا خیال رکھتے ہوئے، شفقت اور محبت سے گفتگو کریں جبکہ تیسرے گروہ سے کہا گیا کہ وہ جیسے ہیں ویسے ہی رہیں۔

ایسے میں بہت سے لوگوں کو یہ خدشہ تھا کہ جس گروہ کو سب کے احساسات کا خیال رکھنے کی تلقین کی گئی ہے اس کے نتائج سب سے بہتر ہوں گے۔

لیکن جس گروہ کو ایمانداری سے گفتگو کرنے کا کہا گیا تھا ان کا نتیجہ بھی اتنا ہی اچھا تھا جتنا کہ دوسروں کا خیال رکھنے والے گروہ کا تھا۔ یہی نہیں بلکہ ان کی گفتگو بھی معنی خیز تھی۔ اس تجربے میں معاشرتی تعلق اور خوشی کے عنصر پر مارکس دیے گئے۔

کوہن کہتے ہیں ‘ایسا لگا جیسا کہ یہ بہت ہی ناگزیر ہوگا۔ لیکن اس میں شامل ہونے والوں نے یہ بیان کیا کہ ایمانداری سے گفتگو کرنے میں وہ خوشی محسوس کرتے ہیں پھر چاہے ان کی گفتگو مشکل ہی کیوں نہ ہو۔‘

اس کے بعد کیے گئے ایک تجربے میں کوہن نے دوستوں، میاں بیوی اور ساتھیوں کی مختلف جوڑیوں سے کہا کہ وہ اپنے ذاتی مسائل کے بارے میں بات کریں۔ جیسا کہ وہ آخری بار کب نارض ہوئے اور ان کے رشتوں میں کیا مسائل چل رہے ہیں۔ ہر کیس میں ایماندار سے کی گئی گفتگو مفید ثابت ہوئی۔ اور اس گفتگو سے ان کی صحت پر پڑنے والے مثبت اثرات اگلے ایک ہفتے تک نظر آئے۔

کوہن کہتے ہیں ‘اس طرح کی گفتگو سے ان کے رشتوں پر مثبت اثرات پڑے اور یہ ایک قیمتی تجربہ تھا۔‘

لیکن یہاں یہ بات کہنا ضروری ہے کہ اس قسم کی گفتگو میں ہوشیاری ضروری ہے۔ کوہن کہتے ہیں کہ آپ کو اپنے تاثرات بیان کرتے وقت ٹائمنگ، اور جملوں کے انتخاب اور ڈھانچے کا خیال رکھنا پڑتا ہے تاکہ سننے والا ان معلومات کا استعمال کرسکے۔

جیسے شادی سے پانچ منٹ پہلے آپ دلہن سے یہ ہر گز نہیں کہہ سکتے کہ وہ اچھی نہیں لگ رہی۔

کسی کی بھی تضحیک کرنا درست نہیں ہے چاہے پھر آپ سچ بات ہی کیوں نہ کہہ رہے ہوں۔

ان پانچوں چیزوں پر عمل کرتے وقت آپ کو دوسرے شخص کے موڈ اور اس کے آرام کا خیال رکھنا چاہیے۔ اور ایسے موضوعات سے اجتناب کرنا چاہیے

جس سے تعلقات بگڑ سکتے ہوں۔ لیکن تھوڑی سے سمجھ بوجھ، نپی تلی گفتگو اور حقیقی دلچسپی دکھا کر آپ کے معاشرتی تعلقات آسان اور بہتر ہوسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں