51

اپوزیشن عوام کے پاس کیوں نہیں جاتی؟

اپوزیشن عوام کے پاس کیوں نہیں جاتی؟

(ڈیلی طالِب)

حکومت تو جن کو ملی ہے، وہ اپنی صلاحیتوں، علتوں، حجتوں اور دقتوں سے دھکا مار چلا رہے ہیں کہ ان سے ملک چلوانے کا تجربہ نیا نیا ہے لیکن یہ حزب اختلاف کے گھاگ کسے چلا رہے ہیں؟

لکھنے کو تو راوی بلاول بھٹو کی ہر تقریر پہ واہ واہ لکھ سکتا ہے، تاریخ بھی حسن پرست ہو جائے تو وہ زیب داستاں کے لیے مریم نواز کی ہر عوامی اور عدالتی پیشی کو بہادری و زیبائی کا حسین امتزاج قرار دے سکتی ہے۔ سیاست کے استاد مولانا فضل الرحمن کے بیان کی روشنی میں جمہور کی اندھیری راہوں کو منور کرنے کی سعی کرسکتے ہیں، صحافت کے علم بردار بھی چاہیں تو نواز شریف، زرداری کیا الطاف حسین کی سیاسی ملاقاتوں کو آج کی بڑی خبر بناسکتے ہیں۔ مگر راوی، تاریخ دان، سیاست کے ماہر اور صحافی اگر ایسا کرتے ہیں تو یہ فکری بددیانتی ہے۔

صرف بلاول بھٹو کی تقریر کا خلاصہ لکھ دینا کافی نہ ہوگا، راوی کو لکھنا ہوگا کہ جب قوم کو ایک مضبوط حزب اختلاف کی ضرورت تھی تب اپوزیشن جماعتیں اپنے اپنے ایجنڈے پہ تتر بتر ہوگئیں۔

تاریخ دان یہ نہ سمجھیں کہ وہ جمہوریت کا انقلابی سفرنامہ مریم نواز کے جوتے لتے اور سٹیل کے گلاس میں تمام کر دیں گے، تاریخ کو بتانا ہوگا کہ جب عوام پہ مہنگائی کا بم دے مارا گیا، جب غلط معاشی پالیسیوں کا خمیازہ دیہاڑی دار کو بھگتنا پڑا، جب زرعی ملک کو غذائی اجناس کی قلت جھیلنا پڑی، جب ملک واپس اندھیروں میں دھکیلا گیا تب اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ویڈیو لیک کا چرچا کر کے اپنے مقدمے نمٹاتی رہی، گھر گھر کھیلتی رہی۔

سیاست کے ماہر یہ نہ سمجھیں کہ پبلک کچھ نہیں جانتی۔ وہ جب مولانا فضل الرحمن کے خانوادے کی سیاسی خدمات گنوائیں، وہ جب مولانا کی سیاسی چالوں کو اثر پذیری کے ترازو میں تولیں تو یہ بھی بتائیں کہ مولانا کی انقلابی سیاست کو مفاہمت کا دیمک تو تب ہی لگ گیا تھا جب وہ مشرف دور میں طاقت کے اسیر ہوئے تھے، اب لاکھ سٹیشن ماسٹر کے کندھے تھپ تھپائیں انقلاب کی گاڑی چھوٹ چکی۔

صحافی بھی چاہیں تو میاں نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز، بلاول کے والد زرداری اور بھائیوں کے بھائی الطاف حسین کو تازہ، بڑی، تڑپتی بھڑکتی خبر بن بنا دیتے ہیں، مگر ان کی خبر ہی دینی ہے تو یہ خبر بھی سرخیوں کا حصہ بنائیں کہ اپنے وقتوں میں شہر کا شہر بند کرانے والے آج عوامی احتجاجی تحریک چلانے سے کترا رہے ہیں۔

اگر موجودہ جمہوری سیٹ اپ میں حکمراں جماعت حکومت کرنے کی اہل نہیں تو حالات بتاتے ہیں کہ مخالف جماعتیں اختلاف کرنے کی اہل نہیں۔

بلوچستان کے طلبہ سڑکوں پہ بیٹھے ہیں اپوزیشن کے لیے یہ ایک غیر متعلقہ معاملہ ہے۔ گوادر والے اپنا حق مانگ رہے ہیں اپوزیشن کو اس میں دلچسپی نہیں۔ لاپتہ افراد کے گھر والے آئے روز پریس کلب کے باہر گلے خشک کر کے چلے جاتے ہیں اپوزیشن کو یہ المیہ بھی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے لیے ناکافی لگتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں سے صدائے احتجاج بلند ہو رہی ہے لیکن یہ بھی ملک کی بڑی اپوزیشن جماعتوں کے لیے کسی بھی عوامی تحریک کا نقطہ آغاز نہیں۔

چلیں یہ معاملات تو وہ ہیں جو ملکی سکیورٹی صورت حال سے نتھی اور حساس ہیں، اس لیے ان معاملات پہ اپوزیشن کو شک کا فائدہ دیئے دیتے ہیں۔ لیکن عوامی مسائل پر اپوزیشن کی خاموشی! اس کا کیا کریں؟

کسان پس گیا کسی کھیت سے تحریک نہ چلی، شہر والوں کو بجلی کے بعد گیس نہیں مل رہی مگر اس مسئلے پر بھی ٹی وی شوز میں بیان بازی کی گئی، پٹرول کی قیمتیں بڑھیں غریب کی قوت خرید ختم ہو کر بات ہاتھ پھیلانے تک آگئی مگر کوئی عوامی احتجاجی تحریک نہ چلی۔

حکومت چینی مافیا، آٹا مافیا، لینڈ مافیا اور اب مذہب مافیا کے سامنے سرنڈر کرگئی کسی اپوزیشن جماعت کو احتجاج کی نہ سوجھی۔ ساہیوال میں بےگناہ مار ی گئی فیملی بھی اپوزیشن کو نظام کی تبدیلی کے لیے کسی فیصلہ کن تحریک پہ اکسا نہ سکی۔

پانامہ پیپرز میں تو درجنوں مبینہ ٹیکس چوروں کے نام آئے تھے انہیں بےنقاب کرنے کے لیے اپوزیشن نے کیا کیا؟ پینڈورا پیپرز میں حکومتی کابینہ کے ارکان کے بھی نام آئے تھے ان کا کیا کر لیا؟ پی ٹی آئی پارٹی فنڈنگ کیس کا فیصلہ ہے کہ ہو کہ نہیں دے رہا اس پہ اپوزیشن نے کیا لائحہ عمل تیار کیا؟

اگر ایل این جی کی خرایدری میں گڑ بڑ ہوئی تو اپوزیشن نے ایک پروگرام کے اینکر کو شاباشیاں دینے کے علاوہ کیا کیا؟ اگر بلین ٹری سونامی میں خرد برد کی گئی تو اپوزیشن نے سوائے سوشل میڈیا پر مذاق اڑانے کے کیا کیا؟ بی آر ٹی منصوبے میں ملکی خزانے کو لوٹاگیا تو اپوزیشن نے کیسے ان ہاتھوں کو روکا؟

آخری اور اہم سوال جو تاریخ دان، راوی، سیاست کے استاد اور صحافی سب کو بہرحال پوچھنا ہوگا وہ یہ ہے کہ اپوزیشن عوام کے پاس کیوں نہ گئی؟

اپوزیشن کی دانست میں اگر سارے ادارے ایک صفحے پر ہیں تو کیا فرق پڑتا ہے، عوام تو اس صفحے پر نہیں۔ پابجولاں چلنے کو زمین ہموار سہی کیا پاؤں کے چھالوں سے حزب اختلاف گھبراگئی؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں