30

پاکستانی نوجوان سے شادی کرنے والی بھارتی سکھ خاتون مشکل میں پھنس گئی

پاکستانی نوجوان سے شادی کرنے والی بھارتی سکھ خاتون مشکل میں پھنس گئی

(ڈیلی طالِب)

لاہور: سکھ کمیونٹی کے سربراہ پرمجیت سنگھ سرنا نے پاکستان سے درخواست کی ہے کہ پاکستانی نوجوان سے شادی کے لئے اپنا مذہب تبدیل کرنے والی خاتون پرمجیت کور کو آئندہ کسی بھی صورت میں دوبارہ پاکستان کا سفر کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

ڈیلی طالِب کے مطابق بھارتی خاتون کے مذہبی یاترا کے ویزے پر پاکستان آنے اور یہاں ایک پاکستانی نوجوان سے شادی کرنے کے واقعہ کے بعد بھارت کی شرومنی اکالی دل کے صدر پرمجیت سنگھ سرنا نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور آفتاب حسن خان کو خط لکھا ہے اور درخواست کی ہے کہ بھارتی خاتون پرمجیت کور جس کا اسلامی نام اب پروین سلطانہ ہے اسے پاکستان آنے کے لیے بلیک لسٹ کیا جائے۔

پرم جیت سنگھ سرنا کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ سکھ برادری کی جانب سے پاکستانی حکومت کے شکر گزار ہیں جنہوں نے مغربی بنگال میں مقیم سکھ یاتری کو وطن واپس بھیج دیا، اس خاتون نے پاکستان میں رہتے ہوئے اپنے یاتری ویزا کا غلط استعمال کیا، مذہب تبدیل کیا اور دوبارہ شادی کی ہے، اس کے اس عمل نے سرحد پار سکھ یاتریوں پر گہرا اثر منفی اثر ڈالا ہے، ہم پاکستانی حکومت کے فوری ردعمل کو سراہتے ہیں جس سے صورتحال پر قابو پانے میں کافی حد تک مدد ملی۔

سرنا نے کہا کہ ہم پاکستانی حکومت سے گزارش کرتے ہیں کہ سکھ خاتون پرمجیت کور کا نام بلیک لسٹ میں ڈالا جائے، کیوں کہ وہ کسی بھی وجہ سے دوبارہ پاکستان کا سفر کرسکتی ہیں، اس پر ویزے کی پابندی کسی بھی شخص کے لیے پاکستان کی زیارت کے لیے جانے والے کسی بھی شکل یا طریقے سے ویزا کی شرائط کی خلاف ورزی کے خلاف رکاوٹ کا کام کرے گی۔

18 ستمبر 1982 کو لکھنؤ میں پیدا ہونے والی سکھ خاتون پرمجیت کور کے پاس کولکتہ میں جاری کردہ ہندوستانی پاسپورٹ نمبر P7867386 ہے۔ اس کا پاسپورٹ 26 فروری 2027 تک کارآمد ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی شہر لکھنو سے تعلق رکھنے والا اشتوش سنگھ اپنی 39 سالہ بیوی پرم جیت کور کو اس کے پاکستانی دوست سے ملوانے کے لئے لاہور لے کر آیا، اور اس کی شادی پاکستانی نوجوان عمران سے کروادی، تاہم 26 نومبرکو جب پرم جیت اور اشتوش واپس جارہے تھے تو انہوں نے محمد عمران کوبھی ساتھ لے لیا اور وہ بھی ساتھ یاتریوں میں شامل ہوکر واہگہ بارڈ جا پہنچے، لیکن وہاں ویزا نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی امیگریشن حکام نے اسے روک لیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں