39

بھارت سے پاکستان آنیوالی خاتون نے اسلام قبول کرکے لاہور کے شہری سے شادی کرلی

بھارت سے پاکستان آنیوالی خاتون نے اسلام قبول کرکے لاہور کے شہری سے شادی کرلی

(ڈیلی طالِب)

سکھوں کے روحانی پیشوا بابا گرونانک کی سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے پاکستان آنے والی سکھ خاتون نے اسلام قبول کرکے لاہور کے شہری سے شادی کرلی۔

بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم سکھ خاتون پرمجیت کور اپنے سکھ شوہر کے ہمراہ بابا گرونانک کی سالگرہ کی تقریبات کے لیے سلسلے میں پاکستان آئی تھیں جنہوں نے اسلام قبول کرکے لاہور کے شہری محمد عمران سے شادی کرلی۔

خاتون نے اسلام قبول کرکے اپنا نام پروین سلطانہ رکھا ہے جب کہ ان کے شوہر عمران بھی بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پرمجیت کا محمد عمران سے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ ہوا تھا جو ان کے سکھ شوہر کے علم میں تھا، پرمجیت نے پاکستان آکر جسٹس آف پیس آفس میں پٹیشن دائر کی اور سکھ شوہر کی موجودگی میں مسلمان شخص محمد عمران سے نکاح کرلیا۔

رپورٹس کے مطابق سکھ شوہر نے اپنی اہلیہ کو پاکستانی عدالت میں جاکر طلاق دی جس کے بعد پرمجیت کا نکاح 23 نومبر کو محمد عمران سے ہو اور بعد ازاں پروین سلطانہ 26 نومبر کو واہگہ بارڈرکے ذریعے سابقہ شوہر کے ہمراہ بھارت واپس چلی گئیں۔

26 نومبر کو سکھ یاتریوں کا ویزا ختم ہونے کے بعد خاتون نے مسلمان شوہر عمران کے ساتھ بھارت واپس جانا چاہا تاہم ویزا نہ ہونے کے باعث محمد عمران کو بھارت جانے کی اجازت نہیں دی جاسکی۔

خاتون کو مسلمان سے شادی مہنگی پڑ گئی

دوسری جانب ذرائع کا بتانا ہے کہ پاکستان آنے والی سکھ خاتون پرمجیت کور کو پاکستان آکر اسلام قبول کرکے ایک گونگے اور بہرے نوجوان محمد عمران کے ساتھ شادی کرنا مہنگا پڑگیا ہے۔

بھارت واپسی پر پرمجیت کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور بھارتی شرومنی اکالی دل دہلی کے صدر پرمجیت سنگھ سرنا نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامورکو خط لکھا ہے جس میں خاتون کو پاکستان جانے کے لیے آئندہ ویزا جاری نہ کرنےاور انہیں مستقل طور پر بلیک لسٹ کرنے کی درخواست کی ہے۔

نئی دہلی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سابق سربراہ پرم جیت سنگھ سرنا نے پاکستانی ناظم الامور آفتاب حسن خان کولکھے گئے خط میں کہا ہے کہ وہ بھارت کی سکھ برادری کی جانب سے مغربی بنگال میں مقیم سکھ یاتری کو پاکستان سے بھارت واپس بھیجنے پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرنا چاہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پرمجیت کور نے پاکستان جا کراپنے یاتری ویزا کا غلط استعمال کیا، مذہب تبدیل کیا اور دوبارہ شادی کی ہے، خاتون کے عمل نے سرحد پار سکھ یاتریوں پر گہرا اثرمنفی اثرڈالا ہے تاہم وہ پاکستانی حکومت کے فوری ردعمل کو سراہتے ہیں جس سے صورتحال پر قابو پانے میں کافی حد تک مدد ملی۔

انہوں نے درخواست کی کہ خاتون کوآئندہ کسی بھی صورت میں دوبارہ پاکستان کا سفر کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

واضح رہے کہ18 ستمبر 1982 کو لکھنؤ میں پیدا ہونے والی گونگی بہری سکھ خاتون پرمجیت کور کے پاس کولکتہ میں جاری کردہ ہندوستانی پاسپورٹ نمبر P7867386 ہے۔ ان کا پاسپورٹ 26 فروری 2027 تک کارآمد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں