33

لوسڈ موٹرز: صرف ایک ماہ سے گاڑیاں فروخت کرنے والی کمپنی جس کی مالیت فورڈ سے زیادہ ہے

لوسڈ موٹرز: صرف ایک ماہ سے گاڑیاں فروخت کرنے والی کمپنی جس کی مالیت فورڈ سے زیادہ ہے

(ڈیلی طالِب)

لوسڈ موٹرز نے گاڑیوں کی تیاری کا کام رواں سال ستمبر میں شروع کیا اور اکتوبر کے اختتام تک وہ کچھ درجن گاڑیاں اپنے صارفین کو ڈیلیور کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے لوسڈ کی مالیت اب ایک صدی پرانی کمپنی فورڈ سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ سیلیکون ویلی میں موجود لوسڈ الیکٹرک گاڑیوں کے دور میں ایک ابھرتی کمپنی ہے اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ٹیسلا کو ٹکر دی سکتی ہے۔

ان کی مارکیٹ ویلیو اب 85 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔

ان کے پہلے ماڈل ‘لوسڈ ایئر ڈریم ایڈیشن‘ کو کار میگزین ’موٹر ٹرینڈ‘ نے سال کی بہترین گاڑی ہونے کا اعزاز دیا ہے۔ امریکی ماحولیاتی ادارے کے شائع کردہ ڈیٹا میں بتایا گیا ہے کہ لوسڈ کو ایک بار چارج کرنے کے بعد 520 میل (852 کلومیٹر) تک چلایا جا سکتا ہے جو کہ کسی بھی الیکٹرک گاڑی کے لیے ایک چارج کے بعد سب سے زیادہ فاصلہ ہے۔

اور اس کمپنی کے پہلے ماڈل کی صرف 520 گاڑیاں ہی مارکیٹ میں فروخت کی جائیں گی۔ اس ماڈل کی فی یونٹ قیمت ایک لاکھ 69 ہزار ڈالر ہے۔

اس کی لگثری گاڑیوں کی سیٹوں میں مساج کی بھی سہولت ہے جبکہ ان میں سالڈ گلاس روف موجود ہے۔

صرف یہی نہیں بلکہ انہی کی بنائی ہوئی ایک اور گاڑی رفتار میں فراری کو پیچھے چھوڑ سکتی ہے اور ان کے پاس کم قیمت والی گاڑیاں بھی ہیں۔ ایئر گرینڈ ٹوئرنگ نامی ماڈل ایک لاکھ 39 ہزار ڈالر، دی ٹوئرنگ 95 ہزار ڈالر جبکہ ایئر سیریز 77 ہزار ڈالر کی ہیں۔ لیکن آخر کی دو گاڑیاں 2022 کے اواخر میں مارکیٹ میں آئیں گی۔

لوسڈ نے اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ ان کے پاس 17 ہزار گاڑیوں کے آرڈر ہیں اور وہ 20 ہزار گاڑیاں ڈیلیور کر دیں گے۔ اگر ان اعداد و شمار کا موازنہ فورڈ کی فروخت سے کیا جائے تو فورڈ نے 2020 میں 40 لاکھ سے زیادہ گاڑیاں فروخت کیں حالانکہ اس سال کورونا کی وجہ سے کمپنی کو بہت سی مشکلات کا سامنا رہا۔

لگژری گاڑیوں سے بڑے پیمانے پر پروڈکشن کا سفر

لوسڈ کے سی ای او پیٹر رالنسن نے متعدد انٹرویوز میں یہ بتایا ہے کہ کمپنی کے پہلے ماڈل کو ایک اہم بنیاد کے طور پر دیکھا گیا جس پر وہ اپنے برانڈ کو مارکیٹ میں قائم کریں گے۔

‘ہمیں ٹیکنالوجی کا ایک شاہکار بنانا تھا اور میرے خیال میں ہم لوسڈ ایئر کی شکل میں اسے کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ہم جس طریقے سے اپنے برانڈ کو پیش کریں گے ہمارا مستقبل بھی اسی انداز میں نظر آئے گا۔‘

رالنسن خود بھی ایک بہت بڑی وجہ ہیں جس کو سامنے رکھتے ہوئے سرمایہ کار لوسڈ میں پیسہ لگاتے ہیں۔ 64 برس کے رالنسن مارکیٹ میں کسی تعرف کے محتاج نہیں ہیں۔

وہ ٹیسلا کے ماڈل ایس کی انجینیئرئنگ کے ذمہ دار تھے لیکن کمپنی کے بانی ایلون مسک کے ساتھ اختلافات کے بعد وہ ٹیسلا چھوڑ آئے۔ اس سے پہلے انھوں نے جیگوار کے ساتھ بھی کام کیا جبکہ لوٹس کمپنی میں وہ چیف انجینیئر تھے۔ لوسڈ نے الیکٹرک گاڑیوں میں استعمال ہونے والی بیٹری کے بہت سے پیٹنٹ بھی رجسٹر کروائے ہیں۔

لوسڈ کی تیزی سے ترقی کی وجہ ان کی گاڑی کے وزن اور انجن اور آلات کا سائز کم کرنے پر توجہ ہے۔ اس سے نہ صرف گاڑی کے پاور آؤٹ پٹ میں اضافہ ہوگا بلکہ جو جگہ بچے گی وہ دوسری چیزوں کے لیے استعمال ہوسکتی ہے۔

رالنسن کہتے ہیں کہ لگژری گاڑیوں کی مارکیٹ میں آنے کے پیچھے وجہ ان کے اصل مقصدر تک رسائی ہے جو کہ الیکٹرک گاڑیوں کا بڑے پیمانے پر استعمال ہے۔ ایسا کرنے کے لیے وہ اپنی کمپنی کی ٹیکنالوجی بھی فروخت کرنے کے لیے راضی ہیں تاکہ انھیں خریدنے والی کمپنی کم قیمت میں الیکٹرک گاڑیاں بنا سکے۔

لیکن وہاں تک پہنچنے کے لیے پہلے انھیں اپنی کمپنی کو مضبوط کرنا ہے جو کہ اس وقت منافع میں نہیں بلکہ نقصان میں ہے اور اسے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان مشکلات کی تفصیلات اس رپورٹ میں شائع کی جاتی ہیں جو کہ یہ اپنے ممکنہ شیئر ہولڈرز کو دیتے ہیں تاکہ انھیں اپنے سرمائے سے جڑے نقصان اور خطرے کا بخوبی علم ہو۔

نیو یارک ٹائمز کی طرف سے شائع کی گئی ایسی ہی ایک 44 صفحوں پر مشتمل رپورٹ میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ کمپنی کو بڑے پیمانے پر گاڑیوں کی پروڈکشن کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ نہ ہی ان کے پاس کسٹمر سروس کا عملہ ہے اور کمپنی کا بہت زیادہ انحصار رالنسن پر ہے۔

ساتھ ہی مارکیٹ میں بہت سی کمپنیاں الیکٹرک گاڑیوں کے میدان میں آرہی ہیں جن کے پاس بڑے پیمانے پر پروڈکشن کا لمبے عرصے کا تجربہ ہے۔

یہ دیکھنا باقی ہے کہ لوسڈ موٹرز لگژری گاڑیوں کی مارکیٹ سے نکل کر کم قیمت والی گاڑیاں بناتی ہے یا نہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں