31

علی وزیر: سپریم کورٹ نے جنوبی وزیرستان کے ایم این اے کی درخواست ضمانت منظور کر لی

علی وزیر: سپریم کورٹ نے جنوبی وزیرستان کے ایم این اے کی درخواست ضمانت منظور کر لی

(ڈیلی طالِب)

پاکستان کی سپریم کورٹ نے جنوبی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما علی وزیر کی درخواست ضمانت منظور کر لی ہے۔

جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے علی وزیر کی درخواست ضمانت پر سماعت کی اور چار لاکھ کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور ہوئی۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس 16 دسمبر 2020 کو سندھ پولیس کی درخواست پر علی وزیر کو پشاور سے گرفتار کر کے کراچی منتقل کیا گیا تھا۔

انھیں چھ دسمبر 2020 کو کراچی میں نکالی گئی پی ٹی ایم کی ایک ریلی کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز اور تضحیک آمیز تقریر کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ اور جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا: ’مبارک ہو، جسٹس طارق مسعود، جمال مندوخیل اور امین الدین خان پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے علی وزیر خان کو ضمانت دے دی ہے۔‘

انھوں نے مزید لکھا: ’علی ایک تقریر کی وجہ سے 11 ماہ تک جیل میں رہے۔ اس میں بہت زیادہ وقت لگا لیکن خوشی ہے کہ علی ضمانت پر باہر ہوں گے۔‘

پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا: ’آخر کار سپریم کورٹ نے علی وزیر کو ضمانت دے دی۔ انھیں ایک برس تک سیاسی بنیادوں پر لگائے الزامات کی وجہ سے جیل میں رکھا گیا۔ امید ہے کہ حنیف اور اویس کو بھی جلد رہا کیا جائے گا۔‘

انھوں نے مزید لکھا: ’تمام سیاسی جماعتوں، وکلا، صحافیوں اور ان تمام افراد کا شکریہ جنھوں نے علی کے لیے آواز اٹھائی۔‘

گلالئی اسماعیل نے لکھا: ’سکون کا سانس۔ مجھے امید ہے کہ علی کو قید میں رکھ کر ہزاروں ووٹرز کو قومی اسمبلی میں نمائندگی سے محروم کرنے والوں کا ایک دن احتساب ہو گا۔‘

عدالتی کارروائی میں کیا ہوا؟

دوران سماعت جسٹس مندوخیل نے کہا کہ ’کیا علی وزیر کے الزامات پر پارلیمان میں بحث نہیں ہونی چاہیے؟‘

انھوں نے کہا کہ ’علی وزیر نے شکایت کی تھی ان کا گلہ دور کرنا چاہیے تھا۔ اپنوں کو سینے سے لگانے کے بجائے پرایا کیوں بنایا جا رہا ہے؟

جسٹس جمال مندوخیل نے مزید کہا کہ ’علی وزیر کا ایک بھی الزام درست نکلا تو کیا ہوگا؟‘

پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ علی وزیر پر اس طرح کے اور بھی مقدمات ہیں اور کسی بھی اور مقدمے میں ان کی ضمانت نہیں ہوئی۔

اس پر جسٹس سردار طارق نے کہا کہ ’کسی اور کیس میں ضمانت نہیں تو اسے سنبھال کر رکھیں۔‘ جسٹس سردار طارق نے یہ بھی کہا کہ علی وزیر پر دہشت گردی کا مقدمہ نہیں بنتا تو وہ دفعہ کیوں لگائی گئی؟‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں