34

جاسوسی کی تربیت آن لائن ڈیٹنگ میں کیسے کار آمد ثابت ہوسکتی ہے؟

جاسوسی کی تربیت آن لائن ڈیٹنگ میں کیسے کار آمد ثابت ہوسکتی ہے؟

(ڈیلی طالِِب)

اس تسلسل میں آگے کیا آتا ہے۔۔۔ 7، 8، 5، 5، 3، 4، 4؟

ہم آپ کو مضمون کے آخر میں اس کا جواب دیں گے لیکن اسی طرح کے سوالات کا جواب تلاش کرنے کا شوق ہی تھا جس نے آمنہ کو جی سی ایچ کیو کے سمر سکول پروگرام میں زیر تربیت جاسوس بننے کی درخواست دینے پر مجبور کیا۔

جی سی ایچ کیو برطانیہ کی انٹیلیجنس، سیکورٹی اور سائبر ایجنسی ہے اور ان کا مشن برطانیہ کے لیے خطرہ بننے والے گروپوں کے آن لائن مواصلات کا تجزیہ اور ان میں خلل ڈال کر ملک کو محفوظ رکھنا ہے۔

آمنہ (فرضی نام) سے ریڈیو 1 نیوز بیٹ نے زوم کے ذریعے بات کی، لیکن اس کا کیمرہ بند تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ان کی عمر 20 سے زیادہ ہے اور برطانوی بنگلہ دیشی ہیں، انھوں نے دو سال قبل سمر سکول مکمل کیا تھا اور اب جی سی ایچ کیو میں کام کرتی ہیں۔

سیکیورٹی ایجنسیوں میں ایک ہی طرح کے لوگ شامل ہونے کا مسئلہ

سیکورٹی سروسز بورڈ آمنہ جیسے ہی امیدوار کو اپنے اداروں میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماضی میں، انٹیلی جنس ایجنسی نسلی اقلیتوں کو بھرتی کرنے سے شاید کتراتی تھیں۔

اکتوبر 2020 میں، تنظیم کے سربراہ نے اعتراف کیا کہ انہیں ‘قدرتی قومی تصویر کی عکاسی‘ کے لیے مزید متنوع بھرتیوں کی ضرورت ہے۔

اس سال کے امیدواروں میں خواتین کی تعداد تقریباً دگنی ہو گئی ہے اور نسلی اقلیتیوں سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد 2020 کے مقابلے میں تین گنا ہو گئی ہے۔

آمنہ کہتی ہیں کہ جی سی ایچ کیو کے اندر تنوع اہم ہے کیونکہ ‘جب آپ مختلف بیک گراؤنڈ سے آتے ہیں، تو آپ کے پاس چیزوں کو دیکھنے کا طریقہ مختلف ہو سکتا ہے۔‘

لیکن انھوں نے اپنے گھر والوں کو یہ نہ بتانے کا انتخاب کیا ہے کہ وہ کیا کرتی ہیں۔ اپنے گھر والوں کو وہ ‘مشکل لوگ‘ کے طور پر بیان کرتی ہیں۔

‘میری ثقافت میں یہ ضروری ہے کہ آپ کے والدین آپ پر فخر محسوس کریں اور ایسا کرنا بہت مشکل ہے جب آپ کوئی ایسا کام کرتے ہوں جہاں آپ انھیں یہ نہیں بتا سکتے کہ آپ کیا کرتے ہیں۔ مجھے فکر ہے کہ انھیں اس پر اتنا فخر ہوگا کہ وہ اسے راز رکھنے میں ناکام ہوسکتے ہیں۔‘

آمنہ کے دوستوں میں سے بھی کوئی بھی نہیں جانتا کہ وہ کیا کرتی ہے۔

‘جب آپ جی سی ایچ کیو میں کام شروع کرتے ہیں تو آپ کو خبردار کیا جاتا ہے کہ ذاتی زندگی میں آپ جو کچھ کہتے ہیں اس حوالے سے محتاط رہیں، لیکن سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ لوگ مجھ سے کام کے بارے میں پوچھتے ہی نہیں۔‘

‘بات چیت کے دوران مجھے اکثر فکر ہوتی ہے کہ کوئی پوچھے گا کہ میں کیا کرتی ہوں مگر کوئی نہیں پوچھتا۔ لوگ اپنے بارے میں ہی باتیں کرنے میں کافی خوش ہوتے ہیں۔‘

کیٹ فش ٹریننگ

آمنہ جیسی ایچ کیو کے لیے کام کرنے والی ایک ہیکر ہیں۔ وہ ایک ایسی ٹیم میں کام کرتی ہے جو قانونی طور پر دہشت گردوں کے مختلف اکاؤنٹس کرتی ہے، مجرمانہ منصوبوں میں خلل ڈالتی ہے اور برطانیہ کو ابھرتے ہوئے خطرات سے بچاتی ہے، جیسے کہ رینسم ویئر کمپیوٹر وائرس جو پیسے مانگتے ہیں، کے حملے۔

وہ کہتی ہی کہ ‘یہ واقعی بہت اچھا، فرنٹ لائن کام ہے۔ جو بہت دلچسپ ہے۔‘

‘کئی بار، میں کسی میٹنگ میں بیٹھی ہوتی ہوں اور سوچتی ہوں کہ ‘میں یقین نہیں کر سکتی کہ وہ مجھے یہ ساری معلومات دے رہے ہیں۔‘

ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ ایک پیچیدہ کام ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آمنہ کہتی ہیں کہ ان کا ہنر انھیں آن لائن ڈیٹنگ کے وقت ھی کام آتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ ‘اوپن سورس تحقیقی ٹولز‘ کا استعمال کر کے ممکنہ ڈیٹس کا بیک گراؤنڈ چیک کرتی ہیں جسے کوئی بھی استعمال کر سکتا ہے۔

‘کسی بھی خبر کو تلاش کریں جس میں اُن کا ذکر کیا گیا ہو یا ان کے سوشل میڈیا پیجز کو دیکھیں، دیکھیں کہ آیا وہ ووٹ دینے کے لیے رجسٹرڈ ہیں، یا آپ ان کی تصاویر کو ریورس سرچ کر سکتے ہیں۔ اس طرح کی چیز آسانی سے دستیاب ہے۔‘

‘یہ کچھ ہے جو میں اپنے لیے کرتی ہوں اور یہ سب کچھ ایسا ہے جو ہر کسی کو کرنا چاہیے۔

‘‘میں اب زیادہ پر سکون ہوں‘

ہر روز جب آمنہ اپنے دفتر کی عمارت میں داخل ہوتی ہیں، تو انھیں تین مختلف شناختی کارڈ سوائپ کرنے پڑتے ہیں اور انھیں اپنے نوٹ پیڈ تک رسائی کے لیے بھی ایک کوڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن سخت سیکیورٹی اور مشکل پروجیکٹش کے باوجود وہ کہتی ہیں کہ یہاں کام شروع کرنے کے مقابلے میں وہ اب ‘زیادہ پر سکون‘ محسوس کر رہی ہیں۔

‘خبریں پڑھ کر میں پریشان نہیں ہوتی کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ لوگ مسائل پر کام کر رہے ہیں۔‘

آج کل آمنہ اور ان کے ساتھیوں کے لیے ایک مصروف وقت ہے۔ گذشتہ ہفتے، جی سی ایچ کیو کے ڈائریکٹر نے کہا تھا کہ برطانیہ میں پچھلے سال میں رینسم ویئر کے حملے دگنے ہو گئے ہیں۔

‘یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ یہاں پر آپ کو ایک پڑھاکو شخص ہونا پڑتا ہے، یا آپ کی پوری زندگی کام کے ارد گرد گھومنا ضروری ہے، لیکن میں نے تو اپنے کئی ویک اینڈ پبز میں گزارے ہیں۔‘

اور اگر آپ اس تحریر کے آغاز میں دی گئی پہیلی کے جواب کے لیے یہاں ہیں، تو اس کا جواب چھ ہے۔ ترتیب مہینوں کے ناموں میں حروف کی تعداد ہے۔ اگست کے چھ حروف ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں