30

سعودی خاتون نشانہ باز جنہیں ’ہتھیاروں سے عشق ہے‘

سعودی خاتون نشانہ باز جنہیں ’ہتھیاروں سے عشق ہے‘

(ڈیلی طالِب)

سعودی عرب کی منی الخریص اسلحے کے ذریعے نہ صرف نشانہ بازی کے کھیل میں نام بنایا ہے بلکہ انہوں نے اس شعبے میں مردوں کی اجارہ داری کو چیلنج کرتے ہوئے اب تربیت دینا بھی شروع کر دی ہے۔

منی الخریص نے نشانہ بازی کے لیے مطلوبہ تعلیم کے ذریعے لائسنس حاصل کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہیں بچپن سے ہی اس دنیا (نشانہ بازی) میں قدم رکھنے کی خواہش تھی، کیونکہ ان کے لیے ہتھیار طاقت کا ایک ذریعہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے والد کے ہتھیاروں اور شکار کے شوق میں دلچسپی لیتی تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ان کے والد نے انہیں شکار اور ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت دے کر ماہر بنانے کافی مدد کی۔

منی الخریص کہتی ہیں کہ انہوں نے 17 برس کی عمر سے یوٹیوب کی ویڈیوز دیکھ دیکھ کر شوٹنگ کا کھیل اور ہتھیاروں کا کھولنا سیکھنا شروع کیا۔

’میں نے فیصلہ کر لیا کہ ایک روز میں اپنے اس شوق کو پیشے کے طور پر اپناؤں گی۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے اس حوالے سے سخت محنت کی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اب آتشی ہتھیاروں کی لائسنس یافتہ تربیت کار بن گئی ہیں۔

انہوں نے سعودی شوٹنگ فیڈریشن اور بین الاقوامی شوٹنگ فیڈریشن کے منظور شدہ کورس بھی مکمل کیے۔

اس کے علاوہ انہوں نے ’سیفٹی اینڈ پروٹیکشن‘ سے متعلق سرٹفکیٹس بھی حاصل کر رکھے ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ اس سب کا مقصد اولمپکس میں شرکت اور عالمی فورم پر قومی نمائندگی کے حوالے سے اپنے مرحوم والد کی خواہش پوری کرنا تھا۔

منی الخریص کے مطابق وہ اب تک سینکڑوں نوجوان مردوں اور خواتین کو تربیت دے چکی ہیں۔

’اسلحہ چلانے کی تربیت عورت کے لیے حفاظت کا ذریعہ ہے۔ مجھے ہتھیاروں سے عشق ہے اور یہ میری شخصیت کا حصہ ہے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں