40

سوئٹزرلینڈ :’خود کش مشین‘ کی قانونی منظوری

سوئٹزرلینڈ :’خود کش مشین‘ کی قانونی منظوری

(ڈیل طالِب)

سوئٹزرلینڈ میں تابوت نما کیپسول کے موجدوں کا کہنا ہے کہ اس کیپسول نے جو اپنے اندر موجود شخص کو اپنی جان لینے میں مدد کرتا ہے قانونی جانچ کا مرحلہ عبور کر لیا ہے۔

سارکو مشین کو اندر سے چلایا جا سکتا ہے۔ جولوگ لاک ان سنڈروم (اعصابی بیماری جس سے آنکھوں کے علاوہ دیگر تمام پٹھے متاثر ہوتے ہیں) کے مریض ہیں صرف پلک جھپک کر اس کا استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ کیپسول میں آکسیجن کو انتہائی سطح سے بھی کم کر دیتا ہے۔

اس عمل میں ایک منٹ سے بھی کم وقت لگتا ہے اور موت ہائپوکسیا اور ہائپوکیپنیا (ٹیشوز کو ناکافی آکسیجن کی فراہمی اور خون میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کمی) کے ذریعے ہوتی ہے جس سے آدمی نسبتا آرام سے اور کم تکلیف سے مر سکتا ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں خودکشی کے لیے طبی معاونت فراہم کرنا قانونی ہے اور گذشتہ برس تقریبا 1300 افراد نے دو تنظیموں ڈیگنیٹاس اور ایگزٹ کی خدمات حاصل کی تھیں۔

دونوں ادارے دو سے پانچ منٹ کے اندر گہرے کوما میں مبتلا کرنے کے لیے ناقابل استعمال مائع دوا باربیٹیوریٹ استعمال کرتی ہیں جس کے بعد موت واقع ہوتی ہے۔

خودکش تابوت ڈاکٹر فلپ نیٹشکے کی تخلیق ہے جنہیں ’ڈاکٹر ڈیتھ‘ بھی کہا جاتا ہے جو غیر منافع بخش تنظیم ایگزٹ انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ (اس ادارے کا ایگزٹ سے کوئی تعلق نہیں)۔

سارکو سرکوفیگس کا مختصر نام ہے۔ اسے اس طرح بنایا گیا ہے کہ اٹھا کر صارف کی پسندیدہ جگہ پر بھی لے جایا جا سکتا ہے جیسےکہ باہر بیٹھنے کی ایک دلکش جگہ اور پھر بائیو ڈیگریڈایبل کیپسول ایک تابوت کے طور پر استعمال کرنے کے لیے نچلے حصے سے علیحدہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر فلپ نیٹشکے کو ایوتھاناسیا کے مخالفین کی طرف سے طریقہ کار کی وجہ سے مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑ اہے۔

ڈاکٹر نیٹشکے نے 2018 کے ایک انٹرویو میں دی انڈیپینڈنٹ کو بتایا تھا کہ ’ہولوکاسٹ کے ساتھ منفی نسبت ہونے کی وجہ سے یورپ میں نگرانی میں کی جانے والی خودکشی کے لیے گیس کبھی بھی قابل قبول طریقہ نہیں ہو سکتا۔ کچھ لوگوں نے یہاں تک کہا ہے کہ یہ صرف ایک شاندار گیس چیمبر ہے۔‘

اس کو اپنے مستقبل سے ہم آہنگ ڈیزائن کی وجہ سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کے بارے میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ خودکشی کو حسین بنا کر پیش کرتا ہے اور ساتھ ہی ایک متعلقہ ورچوئل رئیلٹی ایپ بھی ہے جو لوگوں کو ’اپنی ورچوئل موت کا تجربہ‘ کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

یہ وی آر تجربہ ایمسٹرڈیم کے ویسٹرکرک چرچ میں 2018 کی فیونرل ایکسپو میں کیا گیا تھا جس سے چرچ کے بورڈ کو فکر لاحق ہوگئی تھی۔

ویسٹرکرک چرچ بورڈ کے صدر جیروین کریمر نے اس وقت کہا تھا کہ ’ویسٹرکرک ڈاکٹر نیٹشکے کی تشہیر کے مطابق سازوسامان پیش کرکے کبھی بھی لوگوں کی مدد نہیں کرے گا اور ہم حیران ہیں کہ کیا اس معاملے پر مکمل سنجیدگی سے اور محتاط بحث میں مدد ملے گی۔ ہم اس طرح کے آلات استعمال کرنے کی کسی تجویز کی حمایت نہیں کریں گے اور نہ ہی کر سکتے ہیں۔‘

اس وقت صرف دو سارکو پروٹو ٹائپ موجود ہیں لیکن ایگزٹ انٹرنیشنل تیسری تھری ڈی مشین تیار کررہا ہے اور اسے امید ہے کہ یہ اگلے سال سوئٹزرلینڈ میں کام کے لیے تیار ہو جائے گی۔
ڈاکٹر نیٹشکے نے گذشتہ ہفتے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ ’کوئی قانونی مسئائل نہیں ہیں‘ اور سوئٹزرلینڈ میں مختلف گروپس کے ساتھ بات چیت جاری ہے تاکہ خودکشی میں مدد فراہم کرنے کے لیے کیپسول فراہم کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ’کسی بھی غیر متوقع مشکلات کو چھوڑ کر ہمیں امید ہے کہ ہم اگلے سال سارکو کو سوئٹزرلینڈ میں استعمال کرنے کے لیے فراہم کرسکیں گے۔ یہ اب تک ایک بہت مہنگا منصوبہ رہا ہے لیکن ہمارا خیال ہے کہ اب ہم عمل درآمد کے بہت قریب ہیں۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں