مظفر گڑھ میں حاملہ پولیس سب انسپکٹر کا اغوا، تشدد اور زیادتی کی کوشش، ملزم گرفتار
(ڈیلی طالِب)
’میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے، بلکہ پہلے سے مزید بگڑ گئی ہے۔ میں پانچ مہینے کی حاملہ بھی ہوں۔ انھوں نے میرے سر پر پستول کے بٹ مارے اور چھری سے میری گردن اور کمر پر وار کیے۔
’دو گاڑیاں تھیں، ایک کالے رنگ کی اور ایک سفید رنگ کی۔ مرکزی ملزم سفید گاڑی میں سوار تھا جس نے مجھے اغوا کیا جبکہ کالے رنگ کی گاڑی پیچھے پیچھے آ رہی تھی۔ میں یہ نہیں جانتی کہ اس گاڑی میں کتنے لوگ سوار تھے۔ بس وہ اغوا کر کے لے گئے۔‘
چار ستمبر کو پنجاب کے شہر مظفرگڑھ میں مبینہ طور پر ایک خاتون پولیس اہلکار کے اغوا، ان پر تشدد، اور ان سے ریپ کی کوشش کا واقعہ پیش آیا ہے۔ خاتون پولیس اہلکار، جن کی شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی، مظفرگڑھ میں جینڈر کرائم سیل میں تعینات ہیں۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ملزم نے انھیں تھانے کے باہر سے اغوا کر کے مختلف جگہوں پر لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
مظفر گڑھ پولیس کے ترجمان محمد وسیم کے مطابق اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایف آئی آر درج کر لی گئی تھی اور ڈی ایس پی کی جانب سے جگہ جگہ چھاپے مارے گئے جس کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس وقت وہ پولیس کی حراست میں ہے۔
اس کیس سے متعلق انھوں نے مزید بتایا کہ ایف آئی آر میں ریپ، اغوا اور تشدد کی دفعات کو شامل کیا گیا ہے اور اس سے متعلق تفتیش بھی جاری ہے۔
دوسری جانب آئی جی پنجاب نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او مظفر گڑھ سے رپورٹ طلب کی اور قانون کے مطابق مجرموں کو سخت سزا دلوانے کا کہا ہے۔
مظفر گڑھ سے تعلق رکھنے والی خاتون پولیس اہلکار نے بتایا کہ وہ پچھلے 12 سال سے پولیس کے محکمے سے منسلک ہیں اور ذمہ داری کے ساتھ اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتی آ رہی ہیں۔
’جب میں خان گڑھ میں تعینات تھی تو یہ شخص (ملزم) اس وقت سے میرے پیچھے پڑا ہوا تھا۔ مجھے پہلے بھی کالز اور مسیجز کرتا تھا اور دھمکیاں دیتا تھا۔‘
انھوں نے بتایا کہ اس شخص پر پہلے سے منشیات، ڈکیتی اور دیگر جرائم میں ملوث ہونے کی وجہ سے کئی پرچے بھی ہیں اور کچھ عرصہ قبل اسے اینٹی نارکوٹکس کے اہلکار گرفتار کر کے بھی لے کر گئے تھے۔
’خان گڑھ میں اس کا ایک اور کیس تھا جس میں اس نے زمین پر ناجائز قبضہ کیا ہوا تھا۔ یہ مجھے کہتا تھا کہ تم میرا نمبر ٹریس کروا کر مجھ پر پولیس کے چھاپے پڑواتی ہو اور مجھے پکڑوانا چاہتی ہو۔ اس لیے میں تمھیں چھوڑوں گا نہیں اور جان سے مار دوں گا۔ تاہم میری غلطی یہ ہے کہ میں نے اس کے خلاف رپورٹ نہیں کی۔‘
خاتون سب انسپکٹر کا الزام ہے کہ ملزم علاقے میں سیاسی اثر و رسوخ رکھتا ہے اور پیسوں کے زور پر سزا سے بچتا آیا ہے۔
’مجھے چھ گھنٹے تک اغوا کر کے تشدد کیا گیا‘
خاتون اہلکار کا کہنا تھا کہ ’جس دن اس نے مجھے اغوا کیا میں معمول کے مطابق اپنی ڈیوٹی کے لیے گھر سے رات 12 سے 1 بجے کے درمیان نکلی تھی۔ میں صنفی جرائم سے متعلق معاملات دیکھتی ہوں۔ اس رات بھی مجھے تھانے سے کال آئی کہ جینڈر کرائم کا ایک کیس آیا ہے تو آپ تھانے پہنچ جائیں۔‘
’میں گھر سے نکل کر رکشے میں سوار ہوئی اور پولیس سٹیشن کے پاس رکشے سے جیسے ہی اتری تو اس نے مجھے دھکا دے کر گاڑی میں ڈالا اور گاڑی لاک کر کے بھگا دی۔‘
’اس وقت میرے پاس کوئی اسلحہ بھی نہیں تھا کیونکہ میں یونیفارم کے بجائے سول کپڑوں میں آئی تھی۔ پھر وہ مجھے چمن پائی پاس کے قریب جھاڑیوں میں لے گیا اور وہاں مجھ پر تشدد کرتا رہا۔ وہ مجھ سے کہنے لگا کہ ادھر تمہاری لاش کے ٹکڑے کر کے پھینک دوں گا اور کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا۔ انھوں نے میرا موبائل فون چھین کر اسے بند کر دیا تھا تاکہ میں کسی سے رابطہ بھی نا کر سکوں۔‘
’اس نے پہلے میری ناک چھری سے کاٹنے کی کوشش کی تو میں نے اس پر اپنا ہاتھ رکھ لیا جس کے بعد اس نے میرا انگوٹھا مروڑ کر توڑ دیا۔ میری ناک پر چھری سے وار کرنے کے زخم بھی موجود ہیں۔ وہ لوگ مجھے گاڑی میں ڈالتے اور جگہ جگہ لے کر گاڑی روکتے اور تشدد کرتے۔ انھوں نے میرا ریپ کرنے کی بھی کوشش کی جس پر میں نے بہت مزاحمت کی اور اسی وجہ سے مجھے اتنی چوٹیں بھی آئیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس سارے دورانیے میں ملزم مجھے کہتا رہا کہ اب بلا اپنے ڈی پی او کو، اپنے پولیس والوں کو۔ بلکہ تجھے تھانے میں لے جا کر یہ سب ان کے سامنے کروں گا۔ کیونکہ پولیس بھی ہماری ہے اور آئی جی بھی ہمارا ہے۔‘
’میں نے ان سے منت کی کہ مجھے چھوڑ دو جانے دو، میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ میں پانچ ماہ کی حاملہ ہوں لیکن انھوں نے میری بات نہیں سنی اور چھ گھنٹے تک میرے ساتھ یہ سلوک کیا۔‘
میں بہت مشکل سے وہاں سے تھانے پہنچی۔ جب میں تھانے پہنچی تو میرے کپڑے خون سے بھرے ہوئے تھے اور میں بے ہوش ہو گئی۔ مجھے ہسپتال پہنچا دیا گیا اور میرا علاج کیا گیا۔‘
خاتون پولیس افسر کے مطابق ان کا میڈیکل کروا لیا گیا ہے تاہم ابھی مزید ایکسرے اور الٹراساؤنڈ ہونا باقی ہیں۔ انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر یہ شخص ایک مرتبہ پھر رہا ہو گیا تو ان کی اور ان کے بچوں کی جان کو خطرہ ہے۔
پاکستان میں رواں سال کی ابتدا میں لاہور سیالکوٹ موٹر وے ریپ، پھر نور مقدم قتل اور مینارِ پاکستان پر ٹک ٹاکر خاتون کو جسمانی طور پر ہراساں کرنا وہ چند واقعات ہیں جنھیں میڈیا اور سوشل میڈیا پر نمایاں جگہ ملی ہے تاہم بہت سے واقعات رپورٹ نہیں ہو پاتے۔
حال ہی میں پنجاب پولیس کی جانب سے خواتین کے لیے ایسی موبائل ایپ متعارف کروائی گئی ہے کہ کوئی خاتون مشکل میں ہوں تو وہ اس ایپ کو استعمال کرتے ہوئے پولیس تک اپنی شکایت پہنچا سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ لاہور شہر میں چند روز قبل ہی پولیس کی جانب سے خواتین کی اینٹی ہراسمنٹ فورس بھی متعارف کروائی گئی ہے جو خصوصی طور پر خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعات کی روک تھام کی لیے بنائی گئی ہے۔
لیکن ان سب اقدامات کے باوجود صوبہ پنجاب ہی کے ایک شہر میں اپنی ڈیوٹی کے لیے پولیس سٹیشن تک جانے والی خاتون پولیس اہلکار ہی ایسے واقعے کا شکار ہوئی ہیں جن سے دوسروں کو بچانا اُن کی ذمہ داری تھی۔
- About the Author
- Latest Posts
Ghufran Karamat is a Senior Columunts who work With Daily talib